pratilipi-logo پرتلپی
اردو

ادھوری محبت

20
عشقیہ افسانہ

دوستوں یہ کہانی میری آپ بیتی ہے یہ بات 21 دسمبر 2012 کی ہے جب پہلی بار سحر (فرضی نام) سے میری بات ہوئی تو اس نے مجھے کہا کہ سفیان ہم صرف دوست ہی۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں ...

ابھی پڑھیں
ادھوری محبت
کہانی کی اگلی قسط یہاں پڑھیں ادھوری محبت
Mohammad Sufyan

پارٹ نمبر 2 بریانی شاپ پر میں سحر سے پہلے پہنچ گیا کچھ ہی دیر میں سحر بھی وہاں پہنچ گئ ۔ کس قدر سفیان میں نے تم کو اس دن دھتکارہ تھا اس کے باوجود تم نے مجھے بلڈ کیوں دیا ؟؟ دراصل سحر میں نے اس شخص کو ...

مصنف کے بارے میں
author
Mohammad Sufyan

ادھوری محبت یہ کہانی میری اپنی زندگی پر مبنی ہے ۔۔ یہ بات 21 دسمبر 2012 کی ہے جب پہلی بار سحر ( فرضی نام ) سے میری بات ہوئی۔ اس دن میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا کہ جس کو میں اتنے عرصے سے پسند کرتا آیا ہوں فائنل آج اس نے مجھ سے بات کرنے کی حامی بھر لی ۔۔۔ لیکن اس نے صاف بولا کہ ہم صرف دوستی تک رہیں گے اس سے آگے کا کبھی سوچنا بھی مت مگر میری لیے اس سے بڑی بات کچھ نہیں تھی کہ اس نے مجھے اپنا دوست تو مانا ۔۔۔ تب وہ ایف ۔ایس ۔سی کی سٹوڈنٹ تھی ۔ اس سے بات کرتے وقت جو مجھے خوشی ہو تی تھی میں بیان نہیں کر سکتا ۔ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے میں روز اس کے کالج کے باہر اس کا انتظار کرتا کہ کب چھٹی ہو اور میں اسے دیکھوں۔ خیر وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا ۔ ایک دن کالج سے چھٹی کے وقت میں نے اس کو نمبر کا اشارہ کیا تو اس نے نمبر تھام لیا ۔ دل تو بہت ڈر رہا تھا کہ دیکھ نہ لے وہ کہتے ہے نہ کہ ( بڑا معصوم ہے میرا صنم کہیں بدنام نہ ہو جائے) ۔ خیر اللہ اللہ کر کے نمبر تھما دیا ۔ اب بات فون پر ہونا سٹارٹ ہو گئی۔ اس نے اپنے گھر کے بارے میں سب بتایا کہ وہ اکلوتی ہے اور باپ آرمی سے میجر کی پوسٹ سے ریٹائر ہے ۔ اور وہ اولاد بھی ان کی نہیں ہے لے پالک ہے ۔ اب دن رات ہماری فون پر گفتگو ہونے لگی۔۔ ایک سال گزر گیا اور پتا بھی نہیں لگا ۔ اس سے بات کر کے مجھے دنیا جہان کی کوئی خبر نہ رہتی ۔ مجھے اب اس سے پیار ہونے لگ گیا تھا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ میرا یہ فیصلہ مجھے اس قدر برباد کر دے گا ۔۔۔ خیر ایک دن ہمت کر کے میں نے اسکو ایک بریانی شاپ پر بلایا اور اپنے دل کی بات کر دی جس پر وہ بہت حیران ہوئی اور مجھے بہت سنائی کہ ہم صرف دوست ھیں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ یہ سب بول کر وہ چلی گئ اور میں وہیں بیٹھا سوچوں کے سمندر میں ڈوب گیا ۔۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے رابطہ ختم کر دیا بہت کوشش کے بعد بھی میں اس سے رابطہ نہ کر پایا ۔۔۔ ایک دن اس کی ایک دوست سے پتا لگا کہ وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے تو میں اس کی دوست کے ساتھ اس کا کزن بن کر پتا لینے گیا ۔ اس کے سامنے نہیں گیا مگر اس کے ابو کافی پریشان تھے اور سحر کی رپورٹس ان کے ھاتھ میں تھی ۔۔ میں نے رپورٹ دیکھی تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔ سحر کا بلڈ لیول صرف 5.7 تھا اور اس کا جگر کام کرنا چھوڑ گیا تھا۔۔ جب رپورٹ ڈاکٹر کو دکھائی تو ڈاکٹر نے 5 بلڈ کی بوتلیں لگوانے کا کہا ۔ سحر کے ابو پریشان ہو گئے کہ ہمارا تو اپنا کوئی ہے بھی نہیں تو بلڈ کون دے گا ۔۔۔ تب میں نے کہا کہ انکل آپ فکر نہ کریں اللہ سب بہتر کرے گا آپ بس ڈاکٹر سے پوچھیں بلڈ کب چاہیے ۔ ڈاکٹر نے دو دن بعد بلڈ کا بولا ۔ قسمت سے سحر کا اور میرا بلڈ گروپ ایک ہی تھا ۔ دو دن بعد میں بلڈ دے واپس آ گیا اور اس کی دوست کو بول چکا تھا کہ سحر کو پتا نہ لگے کہ بلڈ کس نے دیا ۔۔ بلڈ دینے کے 3 دن بعد سحر کی کال آئی مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا جب کال ریسیو کی تو سحر رو رہی تھی ۔ میں پریشان ہو گیا اور سحر سے پوچھا کہ سحر خیریت تو ہو خدا کا واسطہ ہے کچھ تو بتاؤ مگر وہ بے ساختہ روئے جا رہی تھی ۔ میرے چپ کروانے پر اور اصرار کرنے پر وہ بولی کہ مجھے معاف کر دو میں نے بنا کچھ سوچے سمجھے تمہیں اس دن سنائی اور آج تم ہی میری جان بجانے کا ذریعہ بنے مجھے معاف کر دو وہ پھر سے رونا شروع ہو گئی اس کی باتیں سن کے میں بھی رو پڑا مگر ہمت کر کے اس کو پھر چپ کروایا اور بولا کہ جو ہو گیا سو ہو گیا اب تم آرام کرو۔ اس نے میری بات کاٹتے ہوئے بولا کہ میں ملنا چاہتی ہوں ابھی ۔ میرے لاکھ منع کرنے پر بھی وہ بضد رہی ۔۔ آخر مجھے ہی ہتھیار ڈالنے پڑے اور اس کو ملنے کا بول دیا ( جاری ہے)

رائے زنی
  • author
    آپ کی ریٹنگ

  • تصنیف پہ کوئی رائے زنی نہیں کی گئی ہے
  • author
    آپ کی ریٹنگ

  • تصنیف پہ کوئی رائے زنی نہیں کی گئی ہے