
پرتلپیسہ دری کے چوکے پر آج پھر صاف ستھری جازم بچھی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی کھپریل کی جھریوں میں سے دھوپ کے آڑے ترچھے قتلے پورے دالان میں بکھرے ہوئے تھے۔ محلے ٹولے کی عورتیں خاموش اور سہمی ہوئی سی بیٹھی تھیں۔ جیسے کوئی بڑی ورادات ہونے والی ہو۔ ماؤں نے بچے چھاتیوں سے لگا لئے تھے۔ کبھی کبھی کوئی محنتی سا چڑ چڑا بچہ رصد کی کمی کی دہائی دے کر چلا اٹھتا۔ ’’نائیں نائیں میرے لال!‘‘ دبلی پتلی ماں اسے اپنے گھٹنے پر لٹا کر یوں ہلاتی جیسے دھان ملے چاول دھوپ میں پٹک رہی ہو۔ اور پھر ہنکارے بھر کر خاموش ہو جاتا۔ آج کتنی آس ...
معاملہ
معاملہ
معاملہ