
Please choose your preferred language
پرتلپیچھٹیوں کا جھانسا (فکاہیہ مضمون) "امی جان! میرے کمرے کی سیٹنگ کب چینج کریں گی؟" " بس بیٹا! ابھی چھٹیاں ہونے والی ہیں تو پہلی فرصت میں آپ کے کمرے کی ترتیب ...

السلام علیکم! آداب! دوسروں کے بارے میں لکھنے کی بات ہوتی تو کب کا بہت کچھ لکھ کر پوسٹ کر چکی ہوتی۔ مگر اپنے بارے میں لکھنابڑا مشکل کام ہے،شاید میرے جیسوں کے لیے کہ کوئی خاص تو کیا عام سا کارنامہ بھی نظر نہیں آتا اپنی زندگی میں جسے فخر سے بتایا جا سکے۔ بس اپنی ایک عادت جو اچھی لگتی ہے اور شاید اسی کی وجہ سے ادھر بھی تاکا جھانکی کر بیٹھی کہ مطالعہ کا بے حد و حساب شوق بلکہ چسکا ہے۔ کب سے؟ اس کا اندازہ کچھ یوں لگا لیں کہ بچپن میں جب والد صاحب کے ساتھ ہم بہن بھائی بازار جاتے تو باقی بچوں کی طرح کھانے پینے اور کھلونوں جیسی چیزوں کی فرمائش کرنے کی بجائے میں کہانیوں کی رنگ برنگی چھوٹی چھوٹی کتابیں خرید لاتی۔ وقت گزرتا گیا اور میرے ساتھ ساتھ ان کتابوں کا حجم اور عنوانات بھی بدلتے گئے۔ اور پھر پتہ ہی نہیں چلا کب کتابوں کے ساتھ ساتھ قلم اور کاغذ سے بھی تھوڑی بہت سلام دعا ہونے لگی، شاید انسانوں کے ساتھ بات کرنے کی نسبت مجھے کتابوں کی سننا اور قلم کے ذریعے کاغذ کو اپنی سنانا ذیادہ آسان لگتا تھا ابھی بھی ایسا ہی ہے۔ دنیاوی لحاظ سے بیٹی، بیوی، ماں اور ایک استاد کے کردار دیانتداری سے نبھانے کی تگ و دو میں زندگی گزر رہی ہے ۔ بس یہی کچھ ہے جو میں اپنے بارے میں جانتی ہوں۔ باقی کا بہت کچھ وہ لوگ ہی جانتے ہیں اور بھگت رہے ہیں جو میرے ساتھ اور آس پاس رہتے ہیں۔ ادھر آکر آپ لوگوں سے اپنے جیسی اپنی عام سی تحریریں شئیر کرنے کو اکثر دل چاہتا ہے مگر زندگی کی باقی مصرفیات اور وقت کی کمی راستہ روک دیتی ہیں۔ ویسے تو میری یہاں پر چند ایک تحریریں اس مقام تک نہیں پہنچ پائیں کہ ان کے قاری مزید کی طلب کریں لیکن کوئی ایک آدھ اگر یہ شوق رکھتا ہے تو من ترنگ کے نام سے میرا فیس بک پیج بھی ہے اور یو ٹیوب چینل بھی جہاں کوشش کرتی ہوں کہ کام کچھ باقاعدگی سے کر پاؤں۔ ان شاءاللہ میں کوشش کروں گی کہ ادھر بھی اپنی تحریریں باقاعدگی سے پوسٹ کر سکوں۔ اللّٰہ تعالٰی آپ سب قارئین کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، خوش رکھے آمین ثم آمین! صائمہ نواز
السلام علیکم! آداب! دوسروں کے بارے میں لکھنے کی بات ہوتی تو کب کا بہت کچھ لکھ کر پوسٹ کر چکی ہوتی۔ مگر اپنے بارے میں لکھنابڑا مشکل کام ہے،شاید میرے جیسوں کے لیے کہ کوئی خاص تو کیا عام سا کارنامہ بھی نظر نہیں آتا اپنی زندگی میں جسے فخر سے بتایا جا سکے۔ بس اپنی ایک عادت جو اچھی لگتی ہے اور شاید اسی کی وجہ سے ادھر بھی تاکا جھانکی کر بیٹھی کہ مطالعہ کا بے حد و حساب شوق بلکہ چسکا ہے۔ کب سے؟ اس کا اندازہ کچھ یوں لگا لیں کہ بچپن میں جب والد صاحب کے ساتھ ہم بہن بھائی بازار جاتے تو باقی بچوں کی طرح کھانے پینے اور کھلونوں جیسی چیزوں کی فرمائش کرنے کی بجائے میں کہانیوں کی رنگ برنگی چھوٹی چھوٹی کتابیں خرید لاتی۔ وقت گزرتا گیا اور میرے ساتھ ساتھ ان کتابوں کا حجم اور عنوانات بھی بدلتے گئے۔ اور پھر پتہ ہی نہیں چلا کب کتابوں کے ساتھ ساتھ قلم اور کاغذ سے بھی تھوڑی بہت سلام دعا ہونے لگی، شاید انسانوں کے ساتھ بات کرنے کی نسبت مجھے کتابوں کی سننا اور قلم کے ذریعے کاغذ کو اپنی سنانا ذیادہ آسان لگتا تھا ابھی بھی ایسا ہی ہے۔ دنیاوی لحاظ سے بیٹی، بیوی، ماں اور ایک استاد کے کردار دیانتداری سے نبھانے کی تگ و دو میں زندگی گزر رہی ہے ۔ بس یہی کچھ ہے جو میں اپنے بارے میں جانتی ہوں۔ باقی کا بہت کچھ وہ لوگ ہی جانتے ہیں اور بھگت رہے ہیں جو میرے ساتھ اور آس پاس رہتے ہیں۔ ادھر آکر آپ لوگوں سے اپنے جیسی اپنی عام سی تحریریں شئیر کرنے کو اکثر دل چاہتا ہے مگر زندگی کی باقی مصرفیات اور وقت کی کمی راستہ روک دیتی ہیں۔ ویسے تو میری یہاں پر چند ایک تحریریں اس مقام تک نہیں پہنچ پائیں کہ ان کے قاری مزید کی طلب کریں لیکن کوئی ایک آدھ اگر یہ شوق رکھتا ہے تو من ترنگ کے نام سے میرا فیس بک پیج بھی ہے اور یو ٹیوب چینل بھی جہاں کوشش کرتی ہوں کہ کام کچھ باقاعدگی سے کر پاؤں۔ ان شاءاللہ میں کوشش کروں گی کہ ادھر بھی اپنی تحریریں باقاعدگی سے پوسٹ کر سکوں۔ اللّٰہ تعالٰی آپ سب قارئین کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، خوش رکھے آمین ثم آمین! صائمہ نواز
معاملہ
معاملہ
معاملہ